Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
68 - 78
    حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو پوچھا گیا کہ خائفین کون ہیں ؟ فرمایا: جن کے دل بسبب خوف ایک پھوڑا سابن گئے ہیں اور ان کی آنکھیں روتی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ جب موت ہمارے پیچھے ہے اور قبر ہمارے آگے اور قیامت ہمارے لئے وعدہ کی جگہ اور جہنم ہمارے لئے راستہ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا پھر ہم کیسے خوش ہوسکتے ہیں ۔
    (احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجاء،بیان احوال الصحابۃ...الخ،ج4،ص227)
    حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جانور کو دیکھ کر فرمایا:
''یالیتنی مثلک یا طائر ولم اخلق بشراً '
'کاش میں پرندہ ہوتا (تو عذاب سے مامون ہوتا) اور بشر نہ ہوتا۔
 (احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجاء،بیان احوال الصحابۃ...الخ،ج4،ص226)
    حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ میں دوست رکھتا ہوں کہ میں درخت ہوتا جو کاٹا جاتا۔
 (کتاب الزھد،للامام احمد بن حنبل،زھد ابی ذر رضی اللہ عنہ،الحدیث:788،ص169)
     دوستو !سلف صالحین کی طرف خیال کروو ہ کس قدر خوف الٰہی رکھتے تھے ۔ اب تم اپنے حالات پر غور کرو ۔ کیا تمہیں کبھی آیاتِ عذاب سن کر رونا آیا ہے؟ کبھی خوفِ الٰہی سے غش ہوا ہے ؟کبھی کلامِ الٰہی سن کر تمہارے بدن کے رونگٹے کھڑے 

ہوئے ہیں؟ اگر نہیں تو قساوتِ قلبی کا علاج کرواور کسی اللہ عزوجل کے مقبول کی غلامی اختیار کرکے اس سے اپنے امراضِ باطنیہ کا علاج کراؤ ۔ اللہ تعالیٰ اپنے شفا خانہ حقیقی سے تجھے شفا عنایت کریگا اور ضرور کریگا کہ اس کا وعدہ سچاہے ۔
Flag Counter