وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴿۪ۙ۱۰﴾
ترجمہ کنز الایمان:اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں۔
پر پہنچے تو غش کھا کر گرپڑے اور زمین پر بہت دیر تک لیٹے رہے ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم من اہوال القیامۃ،ص61)
ف:۔ جو لوگ حضرات صوفیہ رحمہم اللہ تعالیٰ کے وجد وحال پر استہزاء کرتے ہیں وہ ان روایات پر غور کریں اور شیطانی وسوسوں سے بازآئیں ۔
حضرت ربیع بن خیثم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک قاری کو سنا وہ پڑھ رہا تھا:
اِذَا رَاَتْہُمۡ مِّنۡ مَّکَانٍۭ بَعِیۡدٍ سَمِعُوۡا لَہَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیۡرًا ﴿۱۲﴾
ترجمہ کنز الایمان: جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی تو سنیں گے اس کا جوش مارنا چنگھاڑنا۔
آپ سنتے ہی بے ہوش ہو کر گرے ۔ لوگ ان کو اٹھا کر ان کے گھر لے گئے ۔ آپ کی نماز ظہر ، عصر ، مغرب،عشا فوت ہوگئیں کیونکہ آپ بے ہوش تھے ۔اور آپ ہی اپنے
محلہ کے امام تھے ۔ ایک روایت میں ہے کہ پڑھنے والے حضرت عبداللہ بن مسعود تھے۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم من اہوال القیامۃ،ص62)
حضرت وہب بن منبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام