Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
64 - 78
تعالیٰ علیہ کے پاس گئے تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ اے یزید! مجھے کوئی نصیحت کر ۔ حضرت یزید نے فرمایا: ''اے امیر المؤمنین! تو وہ پہلا خلیفہ نہیں جو مرے گا یعنی تجھ سے پہلے خلفاء بھی فوت ہوگئے اور تو بھی فوت ہوجائے گا خلیفہ عمرنے رونا شروع کیا اور فرمایاکہ کچھ اور فرمائیئے ۔ حضرت یزید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کہا کہ تیرے اور حضرت آدم علیہ السلام کے درمیان تیرے آباء میں سے کوئی زندہ نہیں ہے ۔ پھر خلیفہ روئے اوربہت روئے اور فرمایا کہ اور فرمایئے ۔ انہوں نے فرمایاکہ جنت اور دوزخ کے درمیان کوئی تیسرا مقام نہیں اس پرحضرت عمربن عبدالعزیزرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ روئے اور غش کھا کر گر پڑے۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مماخوفہم من اھوال القیامۃ،ص61)
    حضرت حسن بن صالح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک بار اذان دیتے ہوئے جب اشہد ان لا الہ الا اللہ کہا تو غش کھا کر گر پڑے ۔ لوگوں نے ان کو منارہ سے اُتارا ۔ ان کے بھائی نے اذان دی اور نماز پڑھائی اور حسن بے ہوش تھے ۔ حضرت ابو سلیمان دارانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن بن صالح سے بڑھ کر خشوع و خضوع والا کوئی آدمی نہیں دیکھا ۔ ایک رات صبح تک سورہ
عم یتسآءلون
کاہی تکرار کرتے رہے ۔ سورہ مذکور پڑھتے تو غش ہوجاتا جب افاقہ ہوتا تو پھر وضو کرتے پھر پڑھتے پھر غش ہوجاتا اسی طرح کرتے کرتے آپ نے صبح کردی ۔(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم من اہوال القیامۃ،ص61)
    حضرت داود طائی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ اپنے کسی عزیز کی قبر پر رورہی تھی اور کہتی تھی:
لیت شعری بای خدیک بدء الدود
کاش !مجھے
Flag Counter