Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
63 - 78
     حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: اگر تو ستر گناہ اپنے خالق کے، لئے ہوئے خالق کے دربار میں پیش ہو تویہ اس سے بہتر ہے کہ تو مخلوق کا ایک گناہ لے کر جائے ۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مماخوفہم للعباد،ص60)
یعنی حقوق العباد میں سے ایک گناہ خداتعالیٰ کے ستر گناہ سے بہت بڑا ہے ۔ پیارے ناظرین غورفرماویں کہ بزرگانِ دین کو حقوق العباد کا کس قدر خوف تھا تو ہمیں بھی چاہیے کہ ان بزرگوں کے اتباع میں حقوق العباد سے بچتے رہیں اور حتی الوسع اپنی حیاتی میں حقوق العباد کی نسبت اپنا معاملہ صاف کرلینا چاہیے۔
قیامت کا ڈر
    سلف صالحین کی عادات مبارکہ میں سے تھا کہ وہ جب قیامت کے ہولناک حالات سنتے تھے تو بہت ڈرتے تھے اور جب قرآن شریف سنتے تھے تو انہیں غشی ہوجاتی تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ایک روز یہ آیت پڑھی:
اِنَّ  لَدَیۡنَاۤ  اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا ﴿ۙ۱۲﴾    وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ  وَّ عَذَابًا  اَلِیۡمًا ﴿٭۱۳﴾
 (پ29،المزمل:12تا13)
ترجمہ کنز الایمان:بے شک ہمارے پاس بھاری بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی آگ اور گلے میں پھنستا کھانا اور درد ناک عذاب۔
    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور آگ ہے اور کھانا ہے گلے میں اٹکنے والااورعذاب ہے دکھ دینے والا، توحمران بن اعین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سن 

رہے تھے یہ آیت سنتے ہی غش کھا کرگرے اور وفات پاگئے ۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مماخوفہم من اھوال القیامۃ،ص60)
     ایک دفعہ حضرت یزید رقاشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ
Flag Counter