Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
62 - 78
میں دعائے مغفرت کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کردے گا ۔
        (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم مما للعباد علیہم،ص59)
    میں کہتا ہوں: یہ اس صورت میں ہے کہ وہ مظلوم فوت ہوجائے اوراگر زندہ ہو تو اس سے معاف کرائے ۔ حضرت میمون بن مہران رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض اوقات نمازی نماز میں اپنے آپ پر لعنت کہتا ہے اور وہ جانتا نہیں ۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ فرمایا کہ وہ پڑھتا ہے:
اَلَا لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾
 (پ12،ہود:18)
ظالموں پر اللہ کی لعنت۔
اور وہ خود ظالم ہوتا ہے کہ اس نے اپنے نفس پر بسبب گناہوں کے ظلم کیا ہوتا ہے اور لوگوں کے اموال ظلماً اس نے لیے ہوتے ہیں۔
         (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مماخوفہم للعباد،ص59)
اور کسی کی بے عزتی کی ہوتی ہے تو
  لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الظّٰلِمِیْنَ
اس کو بھی شامل ہوتی ہے۔
    حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن لوگوں پر ظلم کرتاہے آپ نے فرمایا کہ تو ڈرتا نہیں؟ایسے دن میں ظلم کرتا ہے جس دن قیامت قائم ہوگی اور جس دن تیرا باپ آدم علیہ السلام پیدا ہوا ۔
         (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مماخوفہم للعباد،ص60)
    حضرت احمد بن حرب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ دنیا سے کئی قومیں کثرت 

حسنات کے ساتھ غنی نکلیں گی اور قیامت میں مفلس ہوں گی کہ حقوق العباد میں سب حسنات کھو بیٹھیں گی
۔(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مماخوفہم للعباد،ص60)
Flag Counter