Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
61 - 78
            اسی طرح ایک شخص اپنی ترازو کو مٹی وغیرہ سے صاف نہیں کرتا تھا اسی طرح چیز تول دیتا تھا جب وہ مرگیا تو اس کو قبر میں عذاب شروع ہوگیا ۔ یہاں تک کہ لوگوں نے اس کی قبر میں سے چیخنے چلانے کی آواز سنی تو بعض صالحین نے اس کے لئے دعائے مغفرت کی۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم مما للعباد علیہم،ص58)
تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس کے عذاب کو دفع کیا۔
    حضرت ابو میسرہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک میت کو قبر میں عذاب ہورہا تھا اور اس سے آگ کے شعلے ظاہر ہوئے تو مردہ نے پوچھا :مجھے کیوں مارتے ہو؟ فرشتوں نے کہا کہ تو ایک مظلوم پر گزرا، اس نے تجھ سے استغاثہ کیا مگر تونے اس کی فریاد رسی نہ کی اور ایک دن تونے بے وضو نماز پڑھی ۔
         (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم مما للعباد علیہم،ص59)
    شریح قاضی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے:
''ایاکم والرشوۃ فانھا تعمی عین الحکیم''
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم مما للعباد علیہم،ص59)
کہ تم رشوت سے بچا کرو کہ رشوت حکیم کی آنکھ کو اندھا کردیتی ہے ۔ حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کسی حاکم کو دیکھتے کہ وہ مساکین پر کچھ تصدق کرتا ہے تو آپ فرماتے: اے صدقہ دینے والے تونے جس پر ظلم کیا ہو اس پر رحم کراور اس کی داد رسی کر کہ یہ کام صدقات سے بہت بہتر ہے ۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم مما للعباد علیہم،ص59)
حضرت میمون بن مہران رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی پر ظلم کرے پھر اس گناہ سے نجات حاصل کرنا چاہے تو چاہیے کہ ہر نماز کے بعد اس شخص کے حق
Flag Counter