تو ہر اطاعت اور ہر نیکی کو عمل میں لانا چاہیے کہ معلوم نہیں کس نیکی پر وہ راضی ہوجائے گا اور ہر بدی سے بچنا چاہیے کیونکہ معلوم نہیں کہ وہ کس بدی پر ناراض ہے خواہ وہ بدی کیسی ہی صغیر ہو مثلاً کسی کی لکڑی کا خلال کرنا ایک معمولی سی بات ہے یا کسی ہمسایہ کی مٹی سے اس کی اجازت کے بغیرہاتھ دھونا گویا ایک چھوٹی سی بات ہے مگر چونکہ ہمیں معلوم نہیں اس لئے ممکن ہے کہ اس برائی میں حق تعالیٰ کی ناراضگی مخفی ہو تو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے بھی بچنا چاہیے۔
حضرت حارث محاسبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کیال جو کہ غلہ جات کا ماپنے والا تھا اس نے اس کام سے توبہ کی اور عبادتِ الٰہی میں مشغول ہوا جب وہ مرگیا تواس کے بعض احباب نے اس کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا ۔ اس نے کہا کہ میرے ماپ میں (یعنی اس ٹوپا میں جس سے غلہ ماپتا تھا) کچھ مٹی سی بیٹھ گئی تھی ۔ جس کا میں نے کچھ نہ کیا تو ہر ٹوپاماپنے کے وقت بقدر اس مٹی کے کم ہوجاتا تھا تو میں اس قصور کے سبب معرض عتاب میں ہوں۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم مما للعباد علیہم،ص58)