Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
59 - 78
    یعنی مفلس وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن نماز روزہ زکوٰۃ حج لے کر آئے اور اس نے کسی کو گالی دی ہو ، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون کیا ہو، کسی کو مارا ہو (تو مدعی آجائیں اور عرض کریں کہ پروردگار اس نے مجھے گالی دی ، اس نے مجھے مارا ، اس نے میرامال کھایا، اس نے میرا خون کیا) تو حق سبحانہ وتعالیٰ اس کی نیکیاں ان مدعیوں کو دےد ے تو اگر نیکیاں ختم ہوجائیں کوئی نیکی باقی نہ رہے اور مدعی اگر باقی ہوں تو ان کے گناہ اس پر ڈالے جائیں گے۔ پھر اس کو دوزخ کا حکم دیا جائے گا اوروہ دوزخ میں ڈالا جائے گا ۔یعنی حقیقت میں مفلس وہ شخص ہے کہ قیامت کے روز باوجود نماز روزہ حج زکوٰۃ ہونے کے پھر وہ خالی کا خالی رہ جائے ۔
    حضرت عبداللہ بن انیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ جل شانہ وعم نوالہ قیامت کے دن ارشاد فرمائے گا کہ کوئی دوزخی دوزخ میں اور کوئی جنتی جنت میں داخل نہ ہو جب تک وہ حقوق العباد کا بدلہ نہ ادا کرے ۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم مماللعباد علیہم،ص58)
    حضرت وہب بن منبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک نوجوان نے ہر قسم کے گناہوں سے توبہ کی پھر ستر سال عبادتِ الٰہی میں شب و روز لگاتا رہا، دن کو روزہ رکھتا ،رات کو جاگتا کسی سایہ کے نیچے آرام نہ کرتا ، نہ کوئی عمدہ غذا کھاتا۔ جب وہ مرگیا،اس کے بعض بھائیوں نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ خداعزوجل نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا؟اس نے کہا کہ خداعزوجل نے میرا حساب لیا پھر سب 

گناہ بخش دئیے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اس کے مالک کی اجازت کے بغیر
Flag Counter