Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
58 - 78
آپ صاحبان صرف اتنا ضرورخیا ل کیاکریں کہ وقوع معصیت تو ہم سے یقینا ہے لیکن وقوع مغفرت مشکوک ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مغفرت کو مشیت پر موقوف رکھا ہے جس کاہمیں علم نہیں اس لئے ہمیں رات دن استغفار میں مشغول رہنا چاہیے ۔
حقوق العباد سے ڈرنا
    سلف صالحین کی عاداتِ مبارکہ میں سے یہ بھی تھا کہ وہ حقوق العباد سے بہت ڈرتے تھے خواہ معمولی سی چیز مثلاًکسی کی خلال یاسوزن ہی ہو تو اس سے بھی ڈرتے تھے۔ خصوصاً جب اپنے اعمال کو نہایت کم سمجھتے توان کے خوف و کرب کی کوئی نہایت نہ ہوتی تھی کہ ہمارے پاس تو کوئی ایسی نیکی نہیں جسے خصم کو اس کے حق کے بدلے قیامت کے دن دے کر راضی کیا جائے ۔ بسا اوقات کسی ایک ہی مظلمہ کے عوض میں ظالم کی تمام نیکیاں لیکر بھی مظلوم خوش نہ ہوگا۔
     حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو پوچھا:
''اتدرون من المفلس من امتی یوم القیامۃ''
کیا تم جانتے ہو کہ میری امّت میں سے قیامت کے دن مفلس کون ہوگا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کی: یارسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم جس کے پاس درہم ودینار نہ ہووہ مفلس ہے ۔ تو آپ نے فرمایا:
''المفلس من یاتی یوم القیٰمۃ بصیام وصلاۃ وزکاۃ وحج ویاتی وقد شتم ھذا و اکل مال ھذا وسفک دم ھذا وضرب ھذا فیعطی ھذا من حسناتہ وھذا من حسناتہ فان فنیت قبل ای یقضی ما علیہ اخذ من خطایا ہم فطرح علیہ ثم قذف فی النار''
 (صحیح مسلم،کتاب البروالصلۃ،باب تحریم الظلم،الحدیث:5281،ص1384،باختلاف 

الالفاظ۔ تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،خوفہم مما للعباد علیہم،ص57    )
Flag Counter