حضرت کہمس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم کو یہ خبرپہونچی ہے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ نے حضرت داود علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ اے داود!(علیہ السلام ) بنی اسرائیل کوکہہ دیجئے کہ تم کو کس طریق سے یہ خبر پہونچی ہے کہ میں نے تمہارے گناہ بخش دئیے کہ تم نے گناہوں پر ندامت چھوڑ دی ہے ۔ مجھے اپنی عزت و جلالیت کی قسم ہے کہ میں ہر گناہگار سے قیامت کے دن اس کے گناہ پر حساب لوں گا ۔ حضرت امام شعرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم دکھائے گاتاکہ گناہ گار اپنے گناہوں کو دیکھ کر نادم ہو پھر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم دیکھے ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مابعد الذنب شر،ص56)
حضرت عتبہ غلام ایک دن ایک مکان پر پہنچ کر کانپنے لگے اور پسینہ پسینہ ہوگئے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس مکان میں میں نے بچپن کی حالت میں اللہ عزوجل کی بے فرمانی کی تھی۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مابعد الذنب شر،ص57)
آج وہ حالت یاد آگئی ہے ۔ حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حج کے لئے بصرہ سے پاپیادہ نکلے کسی نے عرض کی کہ آپ سوار کیوں نہیں ہوتے ۔ آپ نے فرمایاکہ بھاگا ہوا غلام جب اپنے مولاکے دربار میں صلح کے لئے حاضر ہو تو کیا اسے سوار ہوکر آنا چاہیے؟ خدا کی قسم! اگر میں مکہ معظمہ میں انگاروں پر چلتا ہوا آؤں تو بھی کم ہے۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مابعد الذنب شر،ص57)
میرے دینی بھائیو! غور کرو بزرگان دین کو کس قدر خشیت الٰہی غالب تھی ۔