Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
56 - 78
    جو عزم مصمم نہ ہو وہ لکھا نہیں جاتا۔ حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کے اعمال صالحہ پہاڑوں کے برابر تھے پھر بھی وہ غراں نہیں تھے لیکن اب تمہارا وہ حال ہے کہ عمل کچھ بھی نہیں اور اس پر غراں ہو۔خدا کی قسم!ہماری باتیں تو زاہدوں کی سی ہیں اور ہمارے کام منافقوں کے کام ہیں۔
          (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،مابعد الذنب شر،ص56)
    حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:جب تواللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے اوراس حالت میں صبح کرے کہ حق سبحانہ وتعالیٰ کی نعمتیں تجھ پر گھیرا ڈالنے والی ہوں تو ڈر جا کہ یہ استدراج ہے۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مابعد الذنب شر،ص56)
یعنی حق سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے تجھے ڈھیل دی گئی ہے ۔ اس پر مغرور نہ ہو اور جلد تائب ہوکہ اللہ تعالیٰ جب پکڑے گا سخت پکڑے گا مولانا روم فرماتے ہیں ؎

بیں مشو مغرور بر حلم خدا     دیر گیردسخت گیرد مر ترا 

    حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:ہم نے ایسے لوگوں کو پایاجو کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کو بڑا خیال کرتے تھے اور تم بڑے بڑے گناہوں کو بالکل چھوٹا خیال کرتے ہو ۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مابعد الذنب شر،ص56)
    حضرت ربیع بن خیثم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عید کی صبح کو فرمایا کرتے تھے:مجھے تیری عزت وجلالیت کی قسم ہے اگر میں معلوم کروں کہ تیری رضا میرے نفس کے ذبح کرنے میں ہے تومیں آج اپنا نفس تیرے لئے ذبح کردوں ۔
  (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مابعد الذنب شر،ص56)
    حضرت کہمس بن حسن رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چالیس سال روتے رہے صرف اتنی
Flag Counter