Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
55 - 78
    حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کیا ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بخشے بھی جائیں تووہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے ۔ خدا کی قسم! اگر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل میں میرا دخل ہوتا اور مجھے جنت اور دوزخ کا اختیار دیا جاتاتو میں دوزخ اختیار کرتااس خوف کے سبب کہ جنت میں رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے سامنے کس منہ جاؤں ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،الحسن البصری وقتلۃ الحسین،ص54ملخصًا)
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اس نے اس کو یاد کیا اگرچہ اس کی نماز اور روزے اور تلاوتِ قرآن کم ہو اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے اس کو بھلادیا ۔
         (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،ما بعد الذنب شر،ص55)
    حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا کہ ملائکہ بندہ کا ارادہ کس طرح لکھتے ہیں؟ یعنی وہ فرشتے جو نیکی بدی لکھنے پر مامور ہیں جب کسی بندہ نے نیکی یا بدی کا ارادہ کیا اور ابھی عمل نہیں کیا تو وہ ارادہ کو کس طرح معلوم کرلیتے ہیں؟آپ نے فرمایا:جب بندہ نیکی کرنے کا ارادہ کرتاہے تو اس سے کستوری کی سی خوشبو نکلتی ہے اوروہ خوشبو سے معلوم کرلیتے ہیں کہ اس نے نیکی کا ارادہ کیا اورجب برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے بدبو نکلتی ہے تو ان کو معلوم ہوجاتاہے کہ اس نے بدی کا ارادہ کیا ہے۔ میں کہتا ہوں یہاں ارادہ سے عزم مصمم مراد ہے۔
   (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مابعد الذنب شر،ص55،ملخصًا)
Flag Counter