Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
54 - 78
    نہیں کہ اپنے محبوب کو ایذا دے ۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوسکتاہے؟ فرمایا: اپنے خالق اور مالک کی بے فرمانی کرنے کے سبب انسان اپنے نفس کو ایذا دیتا ہے۔
     (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل،سعادۃ آدم وشقاوۃ ابلیس،ص53)
اور اس کا نفس اس کا محبوب ہے یعنی اپنی جان کو مبتلائے عذاب کرنا عقلمندی نہیں ، ایک عربی شاعر کہتا ہے ۔
ایا عاملا للنار جسمک لین

فجربہ لتمرینا بحر الظھیرۃ

ودرجہ فی لسع الزنابیر تجتری 

علی نھش حیات ھناک عظیمۃ
     یعنی اے وہ شخص کہ تو دوزخ کے لئے تیاریاں کررہا ہے،تیرا جسم تو بہت نازک ہے پھر وہ دوزخ میں عذاب کیسے برداشت کریگا ،تو دوپہر کی سخت گرمی میں کھڑے ہوکر اپنے جسم کی آزمائش کر کہ وہ اس میں صبر و تحمل کرسکتا ہے!پھر تو زنبوروں کے چھتوں میں ان کے ڈنکوں کو برداشت نہیں کرسکتا تو دوزخ کے بڑے بڑے اژدہا پر کیوں جرأت کرتا ہے ۔
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں
''العمل الصالح مع قلۃ الذنوب احب الی اللہ من کثرۃ العمل الصالح مع کثرۃ الذنوب''
     (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل،سعادۃ آدم وشقاوۃ ابلیس،ص54)
کہ عمل صالح گناہوں کی کمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے اس سے کہ اعمال کی کثرت کے ساتھ گناہوں کی بھی کثرت ہو۔حضر ت محمد بن واسع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم گناہوں میں غرق ہوگئے اگر کوئی شخص میرے گناہوں کی بدبو سونگھے تو میرے 

پاس نہ بیٹھ سکے ۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،سعادۃ آدم وشقاوۃ ابلیس،ص54،ملخصًا)
Flag Counter