یعنی اے وہ شخص کہ تو دوزخ کے لئے تیاریاں کررہا ہے،تیرا جسم تو بہت نازک ہے پھر وہ دوزخ میں عذاب کیسے برداشت کریگا ،تو دوپہر کی سخت گرمی میں کھڑے ہوکر اپنے جسم کی آزمائش کر کہ وہ اس میں صبر و تحمل کرسکتا ہے!پھر تو زنبوروں کے چھتوں میں ان کے ڈنکوں کو برداشت نہیں کرسکتا تو دوزخ کے بڑے بڑے اژدہا پر کیوں جرأت کرتا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں
''العمل الصالح مع قلۃ الذنوب احب الی اللہ من کثرۃ العمل الصالح مع کثرۃ الذنوب''
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل،سعادۃ آدم وشقاوۃ ابلیس،ص54)
کہ عمل صالح گناہوں کی کمی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے اس سے کہ اعمال کی کثرت کے ساتھ گناہوں کی بھی کثرت ہو۔حضر ت محمد بن واسع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم گناہوں میں غرق ہوگئے اگر کوئی شخص میرے گناہوں کی بدبو سونگھے تو میرے
پاس نہ بیٹھ سکے ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،سعادۃ آدم وشقاوۃ ابلیس،ص54،ملخصًا)