حضرت ابو محمد مروزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ابلیس اس لئے مردود ہوا کہ اس نے اپنے گناہ کا اقرار نہ کیا نہ اس پر ندامت کی نہ اپنے نفس کو ملامت کی نہ توبہ کی طرف مبادرت کی اور اللہ عزوجل کی رحمت سے ناامید ہوگیا ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی لغزش کا اقرار کیا اور اس پر نادم ہوئے اور اپنے نفس پر ملامت کی اور توبہ کی طرف مبادرت فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوئے ۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل،سعادۃ آدم وشقاوۃ ابلیس،ص53)
توا للہ تعالیٰ نے ان کو مقبول فرمایا ۔ حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب تواللہ کی بے فرمانی کرے تو جلدی تائب ہوکر نادم ہو۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل،سعادۃ آدم وشقاوۃ ابلیس،ص53)
حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے تھے کہ میں مطیع ہوکر دوزخ میں جاؤں یہ اس سے بہتر ہے کہ میں عاصی ہوکر جنت میں جاؤں ۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل،سعادۃ آدم وشقاوۃ ابلیس،ص53)
حضرت احمد بن حرب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے: کیا گناہ گار کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ وہ توبہ کرے ۔ اس کا گناہ تو اس کے دفتر میں لکھا گیا اور وہ کل اپنی قبر میں اس کے سبب مبتلائے سختی ہوگا ۔ اور اسی گناہ کے سبب دوزخ میں ڈالاجائے گا۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل،سعادۃ آدم وشقاوۃ ابلیس،ص53)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے تھے کہ کسی عاقل کو مناسب