| اخلاقُ الصالحین |
سبحان اللہ! لباس تو صالحین کا ہے اور ہنسنا غافلوں کا ۔ حضرت عون بن ابی زید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:میں عطاء سلمی کے پاس پچاس سال رہا میں نے ان کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا،ص49)
برادرانِ طریقت! ذرا اپنے اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ کیا ہم لوگوں میں سلف صالحین کی عاداتِ مبارکہ میں سے کوئی عادت پائی جاتی ہے؟ کیا ہمیں غفلت نے تباہ نہیں کیا؟ کیا ہمیں نجات کی چٹھی مل چکی ہے؟کیا ہم آنے والی گھاٹیوں کو طے کرچکے ہیں؟ پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی آخرت سے بے فکر ہیں؟اس وقت کو غنیمت سمجھو اور اپنے خالق و مالک کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرو ۔ا للہ تعالیٰ آپ کو اور مجھ کوبھی توفیق دے۔ آمین
کثرتِ خوف
سلف صالحین کی عاداتِ مبارکہ میں سے یہ بھی تھاکہ وہ اپنے ابتدائی حال اور انتہائی حال میں اللہ تبارک و تعالیٰ سے بہت ڈرتے تھے ۔ ابتدا میں گناہوں سے اور انتہا میں اللہ تعالیٰ کی جلالیت اور تعظیم کے خوف سے اور دونوں حالتوں میں حق سبحانہ وتعالیٰ سے نادم رہتے تھے ۔حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں چار چیزیں ہیں جب کوئی آدمی اس میں افراط کرے وہ اس کو ہلاک کردیتی ہے ۔ ایک کثرت جماع دوسری کثرت شکار تیسری کثرت جوا بازی ،چوتھی کثرتِ گناہ ۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل،خوفہم من اللہ دائم،ص53)
حضرت ابو تراب نخشبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ جب آدمی گناہ ترک کرنے