Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
51 - 78
لَا یُغَادِرُ صَغِیۡرَۃً وَّلَا کَبِیۡرَۃً  اِلَّاۤ  اَحْصٰہَا
(پ15،الکہف:49)
ترجمہ کنزالایمان:نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑاجسے گھیر نہ لیا ہو۔
فرمایا ہے اس میں صغیر سے مراد تبسم اور کبیر سے مراد قہقہہ ہے ۔ میں کہتاہوں تبسم سے وہ تبسم مراد ہے جو ضحک تک پہنچے،یعنی ایساآواز سے ہنسنا جس کو اہل مجلس سن لیں ورنہ صرف تبسم جس کی آواز نہ ہو رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ثابت ہے ۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا،ص48)
    حضرت ثابت بنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مؤمن جب کہ موت سے غافل ہوتوہنستا ہے۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا،ص48)
یعنی موت یاد ہوتو اس کو ہنسی نہیں آتی ۔ حضرت عامر بن قیس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:جو شخص دنیا میں بہت ہنستا ہے وہ قیامت میں بہت روئے گا۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا،ص48)
    حضرت سعید بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چالیس سال تک نہ ہنسے یہاں تک کہ آپ کو موت آگئی ۔ اسی طرح غزوان رقاشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نہیں ہنستے تھے ۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا،ص48)
    حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
''مع کل ضحاک فی مجلس شیطان'
'(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا،ص48)
مجلس میں ہر ہنسنے والے کے ساتھ شیطان ہوتاہے ۔ حضرت معاذہ عدویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہا ایک دن ایسے نوجوانوں پر گزریں جو کہ ہنس رہے تھے اور ان کا لباس صوف کا تھا یعنی لباس صوفیانہ تھاتوآپ نے فرمایا:
سبحان اللہ لباس الصالحین وضحک الغافلین.
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا،ص48)
Flag Counter