Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
50 - 78
کیونکہ آدم علیہ السلام جو کہ جنت میں نہایت اعلیٰ اور عمدہ جگہ میں تھے ان کو اس جگہ سے باہر تشریف لانا پڑا اور کثرت عبادت پر بھی مغرور نہ ہونا چاہیےکیونکہ ابلیس باوجود کثرت عبادت کے ملعون ہوا اور کثرت علم پربھی مغرور نہ ہونا چاہیے کیونکہ بلعم جو کہ اسم اعظم کا عالم تھا آخر اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا اورصالحین کی کثرت زیارت کرنے پر بھی مغرور نہ ہونا چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اقارب جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بکثرت زیارت کی تھی جو مسلمان نہ ہوئے توآپ کی زیارت نے ان کو کچھ نفع نہ پہنچایا ۔
    (تذکرۃ الاولیاء،باب بےست وہفتم،ذکرحاتم اصم،نیمہ اول،ص225)
    حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہاں تک خوفناک اور غمناک رہا کرتے تھے کہ یہی معلوم ہوتا تھا کہ گویا ابھی کوئی تازہ گناہ کرکے ڈررہے ہیں ۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا،ص47)
حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ
رُبّ ضاحک واکفانہ قد خرجت من عند القصار۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا،ص48)
کہ بہت لوگ ہنسنے والے ہیں حالانکہ ان کے کفن کاکپڑا دھوبیوں کے یہاں سے دھویا ہواآچکا ہے ۔ ابن مرزوق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص دعویٰ کرتا ہے کہ مجھے گناہوں کا غم ہے پھر وہ کھانے میں شہد اور گھی جمع کرتاہے تو وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،قلۃ ضحکہم ومزحہم بالدنیا،ص48)
حضرت اوزاعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حق سبحانہ و تعالیٰ نے جو آیت میں
Flag Counter