(احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجاء،بیان احوال الصحابۃ...الخ،ج4،ص227)
یعنی جب ایسی مشکلات تیرے سامنے ہیں اور تجھے اپنی نجات کا بھی علم نہیں تو پھر کس خوشی پر ہنس رہا ہے اس کے بعد وہ شخص کسی سے ہنستا ہوا نہیں دیکھا گیا ۔
حدیث قدسی میں آیا ہے ''
عجبا لمن ایقن بالموت کیف یفرح''
اللہ عزوجل فرماتا ہے ''تعجب ہے اس شخص پر جو موت کا یقین رکھتاہے پھر کیسے ہنستا ہے ''۔
(شعب الایمان،باب فی ان القدر خیرہ...الخ،الحدیث 212،ج1،ص222)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماکوپوچھا گیا کہ خائفین کون ہیں؟ فرمایا:
''قلوبھم بالخوف قرحہ واعینھم باکیۃ یقولون کیف نفرح والموت من ورائنا والقبر امامنا والقیامۃ موعدنا وعلی جہنم طریقنا وبین یدی اللہ ربنا موقفنا ''
(احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجاء،بیان احوال الصحابۃ...الخ،ج4،ص227)
کہ ان کے دل خوف خدا سے زخمی ہیں ان کی آنکھیں روتی ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم کیسے خوشی کریں جب کہ موت ہمارے پیچھے ہے اور قبر ہمارے سامنے ہے اور قیامت ہمارے وعدہ کی جگہ ہے جہنم پر سے گزرنا ہے اور حق سبحانہ و تعالیٰ کے سامنے کھڑا ہونا۔
حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ انسان عمدہ جگہ پر مغرور نہ ہو