| اخلاقُ الصالحین |
بادشاہوں کے دلوں میں ان کی محبت و رحمت ڈال دے ۔ اس حدیث کا یہی مقصود ہے۔ مگر افسوس کہ فی زمانہ لیڈرانِ قوم حضراتِ صوفیہ صافیہ کے خلاف پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں میں ان کی نسبت بد ظنیاں ڈالتے ہیں کہ یہ لوگ خاموش بیٹھے ہیں میدان میں نہیں نکلتے حالانکہ یہی لوگ ہیں جو اس مرض کی اصلیت کو معلوم کرکے اس کے علاج میں مشغول ہیں ۔
جلعنی اللہ منھم۔ امین ۔
عبدالملک بن مروان اپنی رعیت کوفرمایا کرتے تھے: لوگو! تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارے ساتھ ابوبکر وعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی سیرت اختیار کریں لیکن تم اپنی سیرت ان کی رعیت کی سیرت و خصلت کی طرح نہیں بناتے تم ان کی رعیت کی طرح ہوجاؤ ہم بھی تمہارے ساتھ ابو بکر و عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما سا معاملہ کریں گے ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص43)
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے ایسے عالموں کو پایا ہے جو اپنے گھروں میں بیٹھے رہنے کو افضل سمجھتے تھے ۔ آج علماء امیروں کے وزیر اور ظالموں کے داروغے بن گئے ہیں ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص44ملخصًا)
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ کوئی شخص کسی ظالم کا منشی ہو تو کیا جائز ہے ؟ فرمایا کہ بہتر ہے کہ ملازمت چھوڑدے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی تھی:
فَلَنْ اَكُوۡنَ ظَہِیۡرًا لِّلْمُجْرِمِیۡنَ
(پ20،القصص:17)
کہ میں مجرموں کا مددگار ہرگز نہ ہوں گا ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص44،ملخصًا)