| اخلاقُ الصالحین |
'' انا اللہ لا الہ الا انا مالک الملوک وملک الملوک قلوب الملوک فی یدی وان العباد اذا اطاعونی حولت قلوب ملوکھم علیھم بالرحمۃ والرافۃ وان العباد اذا عصونی حولت قلوبھم بالسخطۃ والنقمۃ فساموھم سوء العذاب فلا تشغلوا انفسکم بالدعاء علی الملوک ولکن اشغلوا انفسکم بالذکر والتضرع کی اکفیکم ملوککم'' رواہ ابو نعیم فی الحلیۃ.
(مشکاۃالمصابیح،کتاب الامارۃوالقضاء،الفصل الثالث،الحدیث:3721،ج2،ص12)
میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں میں بادشاہوں کا مالک اور بادشاہوں کا بادشاہ ہوں ۔ بادشاہوں کے دل میرے دستِ قدرت میں ہیں ۔ جب لوگ میری تابعداری کریں میں بادشاہوں کے دلوں میں رحمت اور نرمی ڈال دیتا ہوں اور جب میری مخالفت کریں تو ان کے دلوں کو عذاب اور غضب کی طرف پھیر دیتا ہوں پھر وہ ان کو سخت ایذائیں دیتے ہیں ۔ تو لوگوں کو چاہیے کہ بادشاہوں کو برا کہنے میں مشغول نہ ہوں بلکہ ذکراور عاجزی اختیار کریں پھر بادشاہوں کی طرف سے میں کافی ہوجاؤں گا ۔یعنی وہ رعایا کے ساتھ سلوک و محبت سے پیش آئیں گے ۔ اس حدیث میں ایسے موقعہ پر جو علاج حق سبحانہ نے فرمایا ہے افسوس کہ لوگ اس پر عمل نہیں کرتے بلکہ اس کا خلاف کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی چیخ و پکار میں کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ حضرات صوفیہ کثرھم اللہ تعالیٰ نے اس حدیث پر عمل کیااورحق سبحانہ کے فرمودہ علاج میں شب و روز مشغول ہیں ۔ مسلمانوں کو اصلی معنوں میں مسلمان بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔تو یہی حضراتِ صوفیہ لوگوں کو ذکر الٰہی میں مشغول رکھتے ہیں اور اسی کی ترغیب دیتے ہیں تضرع وزاری کا سبق پڑھاتے ہیں کامل مؤمن بناتے ہیں ۔ تاکہ حق سبحانہ وتعالیٰ