(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص44،ملخصًا)
حضرت طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر گھر میں بیٹھے رہتے تھے لوگوں نے دریافت کیا تو فرمانے لگے کہ میں نے اس لئے گھر بیٹھے رہنے کو پسند کیا ہے کہ رعیت خراب ہوگئی ہے سنت جاتی رہی بادشاہوں اور امیروں میں ظلم کی عادت ہوگئی ہے جو شخص اپنی اولاد اور غلام میں اقامت حق میں فرق کرے وہ ظالم ہے ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص44،ملخصًا)
حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: جب امیر دُبلا ہونے کے بعد موٹا ہوجائے تو جان لو کہ اس نے رعیت کی خیانت کی اور اپنے رب کی خیانت کی ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص44)
حضرت ابو العالیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک دن رشید کے پاس آئے فرمایا کہ مظلوم کی دعا سے بچتے رہنا کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی دعا ردنہیں کرتااگر چہ وہ فاجر ہو۔ ایک روایت میں ہے اگرچہ وہ کافر ہو۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص45)
یعنی مظلوم کوئی بھی ہو اس کی آہ سے بچنا چاہیے۔