Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
47 - 78
   حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آوے گا کہ والیوں اور حاکموں کی طر ف سے ان کو عطیات ملیں گے ان کی قیمت ان کا دین ہوگا ۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص44،ملخصًا)
یعنی لوگ دین دے کر حکام کے عطیات حاصل کریں گے ۔
     حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: جو شخص ظالم کے سامنے ہنسے یا اس کے لئے مجلس میں جگہ فراخ کرے یا اس کا عطیہ لے لے ، تو اس نے اسلام کی رسی کو توڑ ڈالا اور وہ ظالموں کے مددگاروں میں لکھاجاتا ہے ۔
    (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص44،ملخصًا)
    حضرت طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اکثر گھر میں بیٹھے رہتے تھے لوگوں نے دریافت کیا تو فرمانے لگے کہ میں نے اس لئے گھر بیٹھے رہنے کو پسند کیا ہے کہ رعیت خراب ہوگئی ہے سنت جاتی رہی بادشاہوں اور امیروں میں ظلم کی عادت ہوگئی ہے جو شخص اپنی اولاد اور غلام میں اقامت حق میں فرق کرے وہ ظالم ہے ۔
         (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص44،ملخصًا)
     حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: جب امیر دُبلا ہونے کے بعد موٹا ہوجائے تو جان لو کہ اس نے رعیت کی خیانت کی اور اپنے رب کی خیانت کی ۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص44)
     حضرت ابو العالیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک دن رشید کے پاس آئے فرمایا کہ مظلوم کی دعا سے بچتے رہنا کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی دعا ردنہیں کرتااگر چہ وہ فاجر ہو۔ ایک روایت میں ہے اگرچہ وہ کافر ہو۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرہم علی جور الحکام،ص45)
یعنی مظلوم کوئی بھی ہو اس کی آہ سے بچنا چاہیے۔
Flag Counter