Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
43 - 78
   حاصل یہ کہ ان لوگوں کو دنیا داروں سے محبت ہوگی اور اپنی عبادت نمودوریا کے لئے کرتے ہوں گے ، اس لئے دنیاداروں کا کہنا تو مان لیں گے لیکن اپنے سے عابدوں ، زاہدوں سے دلی حسد اور بغض ہوگا۔ اس لئے ان کا کہنا نہیں مانیں گے ۔اللہ اکبر ! یہ اس زمانہ کا حال ہے جو زمانہ نبوت سے بہت قریب تھا تو اب یہاں سے قیاس فرمالیجئے کہ آج کل کیا حال ہے حدیث ِ صحیح میں آیا ہے کہ جو دن آتا ہے اس کے بعد کا دن اس سے براتر ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ زمانہ کے حوادث سے محفوظ رکھے آمین ۔
حکام کے ظلم پر صبر کرنا
    سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں سے یہ بھی تھا کہ وہ حاکموں کے ظلم پر نہایت صبر کرتے تھے اور بڑے استقلال سے ان کی تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ تکالیف ہمارے گناہوں کی بہ نسبت بہت کم ہیں ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ حجاج ثقفی خدا کی طرف سے ایک آزمائش تھا جو بندوں پر گناہوں کے موافق آیا ۔
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرھم علی جور الحکام،ص42)
     سیدنا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے:
''اذا ابتلیت بسلطان جائر فخرقت دینک بسببہ فرقعہ بکثرۃ الاستغفارلک ولہ ایضًا''
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،صبرھم علی جور الحکام،ص42)
کہ جب تجھے ظالم بادشاہ کے ساتھ ابتلاء واقع ہوجائے اور اس کے سبب سے تیرے دین میں نقصان پیدا ہوجائے تو اس نقصان کا کثرت استغفار کے ساتھ تدارک کر 

اپنے لئے اور اس ظالم بادشاہ کے لئے ۔
Flag Counter