یعنی ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔
ابو عبداللہ سمرقندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لوگوں کو فرماتے تھے جب کہ وہ(لوگ) ان کی تعریف کرتے تھے
''واللہ مامثلی ومثلکم الا کمثل جاریۃ ذہبت بکارتھا بالفجور واہلھا لا یعلمون بذلک فھم یفرحون بھا لیلۃ الزفاف وھی حزینۃ خوف الفضیحۃ''
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص41)
خدا کی قسم! میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے ایک لڑکی ہو جس کی بکارت بسبب بدکاری کے زائل ہوگئی ہو اور اس کے اہل کو معلوم نہ ہو تو زفاف کی رات کو اس کے اہل تو خوش ہوں گے اور وہ فضیحت کے خوف سے غمناک ہوگی کہ آج میری کرتوت ظاہر ہو جائے گی۔
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ اس زمانے میں ریا کی کثرت ہوگئی ہے ۔ لوگ عبادت کو ظاہر کرتے ہیں اور ان کا باطن حسد و حقد ، بغض و عداوت بخل وغیرہ میں مشغول ہے ۔ اگر تمہیں ان عابدوں کے ساتھ کوئی حاجت پیش آئے تو کسی ایسے عابد یا عالم کو جو اس کے مثل ہو ، سفارش کے لئے نہ لے جانا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا ۔ البتہ کسی بڑے دولت مند کو سفارشی لے جائے گا تو تیرا کام
ہوجائے گا۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص42،ملخصًا)