(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص40)
ابو عبداللہ انطاکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: باطنی گناہوں کو ترک کرنا افضل الاعمال ہے ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی توفرمایا کہ جس نے باطنی گناہوں کو ترک کیا وہ ظاہری گناہوں کو زیادہ ترک کرنے والاہو گا اور فرمایا کہ جس کا باطن اس کے ظاہر سے افضل ہو وہ خدا کا فضل ہے اور جس کا ظاہر و باطن مساوی ہو وہ عدل ہے اور جس کاظاہر اس کے باطن سے اچھا ہو وہ ظلم و جور ہے ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص40)
یوسف بن اسباط رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء میں سے کسی نبی پر وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو کہہ دیجئے کہ وہ اعمال کو میرے لئے پوشیدہ کریں میں ان کے اعمال کو ظاہر کردوں گا۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص40)
یعنی جو شخص خدا کے لئے پوشیدہ عبادت کریگا اللہ تعالیٰ اس کی عبادت کا چرچا دنیا میں
کر ے گااوراہل دنیا میں وہ عابد مشہور ہوجائے گا ۔ حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ