Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
40 - 78
مدینہ مشرفہ میں جمع ہوئے عمربن عبدالعزیزرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی کہ آپ مجھے کوئی نصیحت فرمادیں تو آپ نے فرمایا:
''ایاک یا عمر ان تکون ولیا للہ فی العلانیۃ وعدوا لہ فی السر''
کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات سے بچنا کہ تو ظاہر میں تو خدا کا دوست ہو اور باطن میں اس کا دشمن کیونکہ جس کا ظاہر اورباطن مساوی نہ ہو تو منافق ہوتاہے اور منافقوں کا مقام درک اسفل ہے ۔یہ سن کر عمربن عبدالعزیزرضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں تک روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص39)
    مہلب بن ابی صفرہ فرمایا کرتے تھے:
''انی لاکرہ الرجل یکون للسانہ فضل علی فعلہ''
 (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص40)
کہ میں ایسے شخص کو بنظر کراہت دیکھتا ہوں جس کی زبان کو اس کے فعل پر فضیلت ہو ۔ یعنی اس کے اقوال تو اچھے ہوں لیکن افعال اچھے نہ ہوں ۔
    عبدالواحد بن زید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جس مرتبہ کو پہنچے اس لئے پہنچے ہیں کہ جس شے کا آپ نے کسی کو حکم دیا ہے ۔ سب سے پہلے آپ نے اس پر عمل کیا ہے اور جس شے سے کسی کو منع کیاہے سب سے پہلے خود اس سے دور رہے ہیں ۔فرماتے ہیں کہ ہم نے کوئی آدمی حسن بصری سے زیادہ اس امرمیں نہیں دیکھا کہ اس کا ظاہر اس کے باطن کے ساتھ مشابہ ہو ۔
        (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص40)
معاویہ بن قرہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے
''بکاء القلب خیر من بکاء العین''
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،مساواتہم السر والعلانیۃ،ص40)
Flag Counter