Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
37 - 78
آج اگر ہم کسی بے ادب فرقہ کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع کریں تو لوگ ہمیں تفرقہ انداز کہتے ہیں حالانکہ یہ تفرقہ نہیں عین اتباع ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں حضور علیہ السلام نے
فایاکم وایاہم لا یضلونکم ولا یفتنونکم فرمایا۔
(صحیح مسلم،المقدمۃ،باب النھی عن الروایۃعن الضعفاء...الخ،الحدیث:7،ص9)
کہ تم ان سے بچو اور ان کو اپنے سے الگ رکھو وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنہ میں نہ ڈالیں ۔
   دیکھو سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے کتنی تاکید کے ساتھ بے دینوں سے بچنے کی ہدایت فرمائی ہے ۔ تو کیایہ لوگ (لیڈرانِ قوم ) معاذاللہ!معاذاللہ! رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر بھی تفرقہ اندازی کا اتہام لگائیں گے ۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تو اس شخص میں رائی کے برابر بھی ایمان نہیں فرماتے ہیں جو ایسے بے دینوں کو دل سے بھی برا نہ جانے ۔ ( مسلم) واللہ تعالیٰ اعلم
ایثار علی النفس
    بزرگانِ دین کے اخلاق میں سے ایثار بھی ہے ۔ وہ اپنے نفس پر غیروں کو ترجیح دیا کرتے تھے،اگرچہ ان کو خود تکلیف ہو مگر وہ دوسروں کو راحت پہنچانے کی سعی کیا کرتے تھے ۔
    رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک انصاری ایک مہمان کواپنے گھر لے گیا ۔ اس کے گھر میں صرف ایک آدمی کا کھانا تھا ۔ اس نے وہ کھانا مہمان کے سامنے رکھ دیا اوراپنی بی بی کو اشارہ کیا کہ وہ چراغ بجھادے ۔ اس نے بجھادیا مہمان کے ساتھ وہ انصاری آپ بیٹھ گئے اور منہ کے ساتھ چپ چپ کرتے رہے جس سے
Flag Counter