| اخلاقُ الصالحین |
وہ بدعتی کے ساتھ نہ بیٹھے نہ اس کے ساتھ کھائے بلکہ اپنی طرف سے اس کے حق میں دشمنی اور بغض ظاہر کرے جس نے بدعتی کے ساتھ مداہنت کی اللہ تعالیٰ اس سے یقین کی لذّت چھین لیتا ہے ۔ اور جس نے بدعتی کو تلاشِ عزت یا تونگری کے لئے مقبول رکھا اللہ تعالیٰ اس کو عزت میں خوار کریگااور اس تونگری میں مفلس کردے گا ۔
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :جس نے بدعتی کی بات سنی اللہ تعالیٰ اس کو اس بات سے فائدہ نہیں دیتا اور جو بدعتی سے مصافحہ کرتا ہے وہ اسلام کا زور توڑ دیتا ہے۔حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: جو بدعتی کو دوست رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اعمال کو حبط (برباد)کردیتا ہے اور اس کے دل سے اسلام کا نور نکل جاتاہے جو شخص بدعتی کے ساتھ بیٹھتا ہو اس سے بھی بچنا لازم ہے ۔انہی سے روایت ہے کہ اگر کسی راستے میں بدعتی آتاہو تو دوسرا راستہ اختیار کرو ۔
حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:جو شخص بدعتی سے ملنے گیا اس کے دل سے نور ایمان جاتارہا۔(مجالس الابرار)
نوٹ:۔جانناچاہیے کہ اس زمانہ میں مقلدین کے سوا جتنے فرقے ہیں سب بدعتی ہیں جن کی مجالست ومخالطت ممنوع ہے ۔
سرورِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان تینوں صحابیوں سے بول چال بند کردی جو ایک جنگ کے پیچھے رہ گئے تھے ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان مخالفان شریعت سے قطع تعلق کرلیا کرتے تھے ۔ سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کے حق میں فرمایا: لایصلی لکم یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے جس نے قبلہ شریف کی طرف منہ کرکے تھوکا تھا ۔