Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
35 - 78
کہ برے ساتھی سے کتّا اچھا ہے ۔ حضرت احمد بن حرب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ نیکوں سے محبت اور ان کے پاس بیٹھنا ان کی صحبت میں رہنا ان کے افعال واقوال دیکھ کر عمل کرنا،انسانی قلب کے لئے اس سے زیادہ کوئی بات نافع نہیں اور بروں کی صحبت میں رہنا فاسقوں سے خلط ملط رکھنا ان کے برے کام دیکھ کر برا نہ جاننا اس سے زیادہ قلب کے لئے کوئی شے ضرر رساں نہیں ۔
     (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،غیرتہم لانتہاک الحرمات،ص47)
     حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اہل معاصی کے ساتھ بغض رکھ کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت رکھو اور ان سے دور رہ کراللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور ان کو برا سمجھنے سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرو ۔ لوگوں نے عرض کی کہ اے نبی اللہ! پھر ہم کس کے پاس بیٹھیں؟ فرمایا:جالسوا من یذکرکم اللہ رویتہ ان لوگوں کے پاس بیٹھو جن کا دیکھنا تمہیں اللہ عزوجل کویادکراوے اور جن کا کلام تمہارے اعمال میں زیادتی کا باعث ہو اور ان کے اعمال تمہیں آخرت کی طرف رغبت دیں ۔
(نزہۃ الناظرین،کتاب آداب الصحبۃ،الباب الثانی فی فضل الحب فی اللہ،ص166)
    حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آیت
لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنْ حَآدَّ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ  (1)
کی تفسیر میں آیا ہے کہ جس نے اپنا ایمان صحیح کیا اور توحید خالص کی
Flag Counter