(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،غیرتہم لانتہاک الحرمات،ص46)
کہ فاسق کے ساتھ قطع (تعلق) کرنا اللہ عزوجل کا قرب حاصل کرنا ہے ۔
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا کہ کیا فاسق کے پاس تعزیت یاماتم پرسی کے لئے جانادرست ہے یانہیں؟توآپ نے فرمایاکہ درست نہیں ہے ۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،غیرتہم لانتہاک الحرمات،ص46)
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
''من ادعی انہ یحب عبدًا لِلّٰہ تعالی ولم یبغضہ اذا عصی اللہ تعالی فقد کذب فی دعواہ انہ یحبہ لِلّٰہ''
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،غیرتہم لانتہاک الحرمات،ص46)
یعنی جو شخص دعویٰ کرے کہ میں فلاں شخص کو خدا کے لئے دوست رکھتا ہوں اور وہ شخص جب نافرمانی کرے اورو ہ اسے برا نہ سمجھے تو اس نے محبت کے دعویٰ میں جھوٹ کہا کہ خدا کے لئے ہے ۔ اس کی محبت خدا کے لئے نہیں ۔ اگر خدا کے لئے ہوتی تو اس نے نافرمانی کی تھی اسے اس نافرمانی کے سبب برا سمجھتا اللہ تعالیٰ کے مقبولوں کو بے دینوں سے ایسی نفرت تھی۔ حضرت مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کتّے کو جب آپ کے سامنے آکر بیٹھ جاتا تو نہ ہٹاتے اور فرماتے
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،غیرتہم لانتہاک الحرمات،ص46)