| اخلاقُ الصالحین |
تومعلوم ہو ا کہ بندہ شیطان سے اخلاص کے سوا نہیں بچ سکتا ۔ اخلاص ہوتو ابلیس کی کوئی پیش نہیں جاتی۔
(احیاء علوم الدین،کتاب النیۃ والاخلاص والصدق،الباب الثانی فی الاخلاص و فضیلۃ...الخ،ج5،ص104)
الحب فی اللہ والبغض فی اللہ
سلف صالحین کی عادات مبارکہ میں یہ بھی تھا کہ وہ جس شخص سے محبت یا دشمنی رکھتے تھے ،محض خدا کے لئے رکھتے تھے ۔ دنیا کی کوئی غرض نہیں ہوتی تھی ۔ یعنی کسی دنیا دار کے ساتھ دنیا کے لئے محبت نہیں رکھتے تھے ۔ بلکہ ان کا مقصود رضائے حق سبحانہ و تعالیٰ ہوتا تھا ۔ اگر دنیا دارباوجود مالدار ہونے کے دیندار بھی ہوتو بو جہ دین داری کے اس سے محبت رکھتے تھے ۔ اگر بے دین ہوتو اسے ہدایت کرتے تھے اور یہی کمالِ ایمان ہے ۔چنانچہ حدیث شریف میں آیا ہے
''من احب للہ وابغض للہ واعطی للہ ومنع للہ فقد استکمل الایمان''.
(سنن ابی داود،کتاب السنۃ،باب الدلیل علی زیادۃ الایمان ونقصانہ، الحدیث:4681، ج4،ص290)
یعنی جس شخص نے کسی کے ساتھ محبت کی تو محض خداعزوجل کے لئے کی،اگر بغض رکھا تو خداعزوجل کے لئے،اگر کسی کو کچھ دیا توخدا عزوجل کے لئے ، اگر نہ دیا تو خدا عزوجل کے لئے،اس نے اپنا ایمان کامل کرلیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی بھیجی کہ کیا تونے میرے لئے بھی کوئی کام کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی کہ ہاں میں نے تیرے لئے نمازیں پڑھیں ، روزے رکھے ،خیرات دی،اور بھی کچھ اعمال عرض کیے ۔ اللہ تعالیٰ نے