نہیں ہوں کہ اس کا قطع کرنامجھ پر لازم ہو اور نہ مجھے حق سبحانہ وتعالیٰ نے اس کے کاٹنے کا امر فرمایا ہے کہ میں نہ کاٹنے سے گنہگار ہوں گا اور جس بات کا اس شیخ نے ذکر کیا ہے وہ بےشک مفید ہے ۔ یہ سوچ کر عابد نے منظور کرلیا اور پورا عہد کرکے واپس آگیا ۔رات کو سویا صبح اٹھا تو دو دینار اپنے سرہانے پاکر بہت خوش ہوا ۔ اسی طرح دوسرے دن بھی دودینار مل گئے ۔ پھر تیسرے دن کچھ نہ ملا تو عابد کوغصّہ آیا اور پھر درخت کاٹنے کے ارادے سے اُٹھ کھڑا ہوا ۔ پھر ابلیس اسی صورت میں سامنے آگیا ۔ اور کہنے لگا کہ اب کہاں کا ارادہ ہے ؟عابد نے کہا کہ درخت کاٹوں گا ۔ اس نے کہا کہ میں ہرگز نہیں جانے دوں گا ۔ اسی تکرار میں دونومیں کشتی ہوئی ۔ ابلیس نے عابد کو گرادیا اور سینہ پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اگر اس ارادہ سے باز آجائے تو بہتر ورنہ تجھے ذبح کرڈالوں گا۔ عابد نے معلوم کیا کہ مجھے اس کے مقابلے کی طاقت نہیں ۔ کہنے لگا کہ اس کی وجہ بتاؤ کہ پہلے تو میں نے تم کوپچھاڑ لیا تھا آج تو غالب آگیا ہے اس کی کیاوجہ ہے؟شیطان بولاکہ کل تو خالص خدا کے لئے درخت کاٹنے نکلا تھا تیری نیت میں اخلاص تھا ۔ لیکن آج تجھے دو دیناروں کے نہ ملنے کا غصّہ ہے ۔آج تیرا ارادہ محض خدا کے لئے نہیں اس لئے میں آج تجھ پر غالب آگیا ۔
اس حکایت سے معلوم ہوا کہ شیطان مخلص بندوں پر غلبہ نہیں پا سکتا ۔ حق سبحانہ و تعالیٰ نے اس کی تصریح فرمائی ہے