Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
31 - 78
عابد نے شیطان کو نیچے ڈال لیا اور سینہ پربیٹھ گیا ۔ ابلیس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دے میں تیرے ساتھ ایک بات کرنی چاہتا ہوں ۔ وہ ہٹ گیا تو شیطان نے کہا:اللہ تعالیٰ نے تم پر اس درخت کا کاٹنا فرض نہیں کیا اور تو خود اس کی پوجا نہیں کرتا پھر تجھے کیا ضرورت ہے کہ اس میں دخل دیتا ہے۔ کیا تو نبی ہے یا تجھے خدا نے حکم دیا ہے؟ اگرخدا کو اس درخت کا کاٹنا منظور ہے تو کسی اپنے نبی کو حکم بھیج کر کٹوادے گا۔عابد نے کہا :میں ضرور کاٹوں گا پھران دونوں میں جنگ شروع ہوگئی عابد اس پر غالب آگیا ۔اس کو گرا کر اس کے سینہ پر بیٹھ گیا ۔
     ابلیس عاجز آگیااوراس نے ایک اور تدبیر سوچی اور کہا کہ میں ایک ایسی بات بتاتا ہوں جو میرے اور تیرے درمیان فیصلہ کرنے والی ہو اور وہ تیرے لئے بہت بہتر اور نافع ہے ۔ عابد نے کہا:وہ کیا ہے؟ اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دے تو میں تجھے بتاؤں ۔ اس نے چھوڑ دیا تو ابلیس نے بتایا کہ تو ایک فقیر آدمی ہے تیرے پاس کوئی شے نہیں لوگ تیرے نان و نفقہ کا خیال رکھتے ہیں، کیا تو نہیں چاہتا کہ تیرے پاس مال ہو اور تو اس سے اپنے خویش واقارب کی خبر رکھے اور خود بھی لوگوں سے بے پرواہ ہوکر زندگی بسرکرے؟اس نے کہا:ہاں یہ بات تو دل چاہتاہے ۔ تو ابلیس نے کہا کہ اس درخت کے کاٹنے سے باز آجا۔ میں ہر روز ہررات کوتیرے سر کے پاس دو دینار رکھ دیا کروں گا ۔ سویرے اُٹھ کر لے لیا کر ۔ اپنے نفس پر اپنے اہل و عیال پراوردیگر اقارب وہمسایوں پرخرچ کیاکرتیرے لئے یہ کام بہت مفیداور مسلمانوں کے لئے بہت نافع ہوگا۔ اگر یہ درخت تو کاٹے گا اس کی جگہ اور درخت لگالیں گے تو اس میں کیا فائدہ ہوگا؟عابد نے تھوڑا تفکر کیا اور کہا کہ شیخ (ابلیس ) نے سچ کہا،میں کوئی نبی
Flag Counter