Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
30 - 78
   حضرت عکرمہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے کوئی شخص اس شخص سے زیادہ بے عقل نہیں دیکھا جو اپنے نفس کی برائی کو جانتا ہے پھر وہ چاہتا ہے کہ لوگ مجھے عالم و صالح سمجھیں ۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص کانٹے بوتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس میں کھجوروں کا پھل لگے ۔
     (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص32،ملتقطا)
    حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ سجدہ میں رورہا ہے فرمایا:
نعم ھذا لوکان فی بیتک حیث لا یراک الناس ۔
     (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص32،ملتقطا)
یعنی یہ اچھا کام ہے اگر گھر میں ہوتا جہاں لوگ نہ دیکھتے ۔
حکایت
  حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ احیاء العلوم میں نقل کرتے ہیں کہ ایک عابد کو جو کہ عرصہ دراز سے عبادتِ الٰہی میں مشغول تھا لوگوں نے کہا کہ یہاں ایک قوم ہے جو ایک درخت کی پرستش کرتی ہے ۔ عابد سن کر غضب میں آیا اور اس درخت کے کاٹنے پر تیار ہوگیا ۔ اس کو ابلیس ایک شیخ کی صورت میں ملااور پوچھا کہ کہاں جاتا ہے؟عابد نے کہا کہ میں اس درخت کے کاٹنے کو جاتا ہوں جس کی لوگ پرستش کرتے ہیں ۔وہ کہنے لگاکہ تو فقیر آدمی ہے تجھے ایسی کیا ضرورت پیش آگئی کہ تو نے اپنی عبادت اور ذکر وفکر کو چھوڑا اور اس کام میں لگ پڑا ۔ عابد بولا کہ یہ بھی میری عبادت ہے ۔ ابلیس نے کہاکہ میں تجھے ہرگز درخت کاٹنے نہیں دوں گا۔اس پر دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔
Flag Counter