(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص32،ملتقطا)
یعنی یہ اچھا کام ہے اگر گھر میں ہوتا جہاں لوگ نہ دیکھتے ۔
حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ احیاء العلوم میں نقل کرتے ہیں کہ ایک عابد کو جو کہ عرصہ دراز سے عبادتِ الٰہی میں مشغول تھا لوگوں نے کہا کہ یہاں ایک قوم ہے جو ایک درخت کی پرستش کرتی ہے ۔ عابد سن کر غضب میں آیا اور اس درخت کے کاٹنے پر تیار ہوگیا ۔ اس کو ابلیس ایک شیخ کی صورت میں ملااور پوچھا کہ کہاں جاتا ہے؟عابد نے کہا کہ میں اس درخت کے کاٹنے کو جاتا ہوں جس کی لوگ پرستش کرتے ہیں ۔وہ کہنے لگاکہ تو فقیر آدمی ہے تجھے ایسی کیا ضرورت پیش آگئی کہ تو نے اپنی عبادت اور ذکر وفکر کو چھوڑا اور اس کام میں لگ پڑا ۔ عابد بولا کہ یہ بھی میری عبادت ہے ۔ ابلیس نے کہاکہ میں تجھے ہرگز درخت کاٹنے نہیں دوں گا۔اس پر دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی۔