Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
29 - 78
بیٹھ کر حدیثیں بیان نہیں کرتے ۔ فرمایا: خدا کی قسم!میں تم کو اس بات کا اہل نہیں سمجھتا کہ تمہیں حدیثیں بیان کروں اور اپنے نفس کو بھی اہل نہیں سمجھتا کہ تم میرے جیسے شخص سے حدیثیں سنو ۔
 (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص28)
     حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب قرآن کی تفسیر بیان کرنے سے فارغ ہوتے تو فرمایا کرتے کہ اس مجلس کو استغفار کے ساتھ ختم کرو۔
         (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص28)
یعنی مجلس کے ختم پر بہت استغفار کرتے ۔حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے :
العمل لاجل الناس ریاء وترک العمل لاجل الناس شرک و الاخلاص ان یعافیک اللہ منھما۔
         (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص31)
کہ لوگوں کے واسطے عمل کرنا ریا ہے اور لوگوں کے لئے عمل چھوڑدینا شرک ہے۔ اور اخلاص یہ ہے کہ ان دونوں سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ۔ نہ لوگوں کے دکھانے کے لئے عمل کرے نہ لوگوں کے ہونے کے سبب چھوڑے ۔ حضرت امام شعرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ترک عمل برائے مردمان یہ ہے کہ جہاں لوگ تعریف کرنے والے ہوں وہاں تو عمل کرے اور جہاں نہ ہوں چھوڑ دے ۔
         (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص32)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے حواریوں کو فرمایا کرتے تھے:جب تم روزہ رکھو تو سراور داڑھی کو تیل لگاؤ اور اپنی حالت ایسی رکھو کہ کوئی معلوم نہ کرسکے کہ یہ روزہ دار ہیں۔
        (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص32)
Flag Counter