Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
28 - 78
حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو دیکھا کہ وہ حرم شریف میں ایک بہت بڑے حلقہ درس میں حدیث کا املاء فرمارہے تھے۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے قریب ہوکر ان کے کان میں کہا کہ اگر تیرا نفس تجھے عُجب میں ڈالے یعنی اگر نفس کو یہ بات پسندیدہ معلوم ہوتی ہے توتو اس مجلس سے اُٹھ کھڑا ہو اسی وقت حضرت طاؤس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔
         (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص27)
    حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت بشر حافی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حلقہ میں تشریف لے گئے تو آپ کے حلقہ درس کو دیکھ کرفرمانے لگے:اگر یہ حلقہ کسی صحابی کا ہوتا تو میں اپنے نفس پرعجب سے بے خوف نہ ہوتا ۔
         (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص27)
     حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب حدیث کی املاء کے لئے اکیلے بیٹھتے تو نہایت خائف اور مرعوب بیٹھتے ۔ اگر ان کے اوپر سے بادل گزرتا تو خاموش ہوجاتے اور فرماتے کہ میں ڈرتا ہوں کہ اس بادل میں پتھر نہ ہوں جو ہم پر برسائے جائیں۔
         (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص27)
  ایک شخص حضرت اعمش رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حلقہ میں ہنسا تو آپ نے اس کو جھڑکا اور اُٹھا دیا اور فرمایا کہ تو علم طلب کرتا ہوا ہنستا ہے جس علم کے طلب کے لئے اللہ تعالیٰ نے تجھے مکلف فرمایا ۔ پھر آپ نے دوماہ تک اس کے ساتھ کلام نہ کیا ۔
         (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص28)
    حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کہا گیا کہ آپ کیوں ہمارے ساتھ
Flag Counter