حضرت ابو داود طیالسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ عالم کولا زم ہے کہ جب کوئی کتاب لکھے اس کی نیت میں دین کی نصرت کا ارادہ ہو یہ ارادہ نہ ہوکہ عمدہ تالیف کے سبب لوگ مجھے اچھا سمجھیں ۔ اگر یہ ارادہ کریگا تو اخلاص جاتا رہے گا۔
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص26)
امیر المؤمنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ریا کار کی تین علامتیں ہیں جب اکیلا ہو تو عبادت میں سستی کرے اور نوافل بیٹھ کر پڑھے اور جب لوگوں میں ہو تو سستی نہ کرے بلکہ عمل زیادہ کرے اور جب لوگ اس کی مدح کریں تو عبادت زیادہ کرے، اگرلوگ مذمت کریں تو چھوڑ دے ۔
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص27)
حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جو عمل میں نے ظاہر کردیا ہے میں اس کو شمار میں نہیں لاتا یعنی اس کو کالعدم سمجھتا ہوں کیونکہ لوگوں کے سامنے اخلاص حاصل ہونا مشکل ہے ۔
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص27)
حضرت ابراہیم تیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایسا لباس پہنتے تھے کہ ان کے احباب کے سوا کوئی ان کو پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ عالم ہیں اور فرمایا کرتے تھے کہ مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو ایسا چھپائے جیسے برائیوں کو چھپاتا ہے ۔
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص27)