| اخلاقُ الصالحین |
حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ کسی بھائی کو اس کے نفلی روزوں کے متعلق نہ پوچھو کہ تیرا روزہ ہے یا نہیں ۔ کیونکہ اگر اس نے کہا کہ میں روزہ دار ہوں تو اس کا دل خوش ہوگا اور وہ خیال کریگا کہ میری عبادت کا اس کو پتالگ گیا ہے ۔ اگروہ بولا کہ میرا روزہ نہیں تو وہ غمناک ہوگا اور اسے شرم آئے گی کہ میرا روزہ نہیں اور اس شخص کو میری نسبت جو حسنِ ظن ہے جاتارہے گا ۔ یہ خوشی اور غمی دونوں ہی علاماتِ ریا سے ہیں اور اس میں اس مسؤل کو فضیحت ہے کہ صرف تمہارے پوچھنے کے سبب وہ ریا میں مبتلا ہوا۔
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص25)
حضرت عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کعبہ کا طواف کرتاہے اور وہ خراسان کے لوگوں کے لئے ریا کرتا ہے لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ یہ کیسے ہوسکتاہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ طواف کرنے والا اس بات کی محبت رکھتا ہے کہ اہل خراسان مجھے دیکھیں اور یہ خیال کریں کہ یہ شخص مکّہ شریف کا مجاور ہے اور ہر وقت طواف وسعی میں رہتاہے بڑا اچھا ہے۔جب اس نے یہ خیال کیا تو اس طواف میں اخلاص جاتا رہا ۔(
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص25)
حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
ادرکنا النّاس وھم یراؤون بما یعملون فصاروا الآن یراؤون بما لا یعملون
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص25)
کہ ہم نے ایسے لوگوں کو پایا کہ وہ عملوں میں ریا کرتے تھے یعنی عمل کرتے تھے اور اس میں ریا ہوتاتھا لیکن آج ایسی حالت ہوگئی ہے کہ لوگ ریا کرتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے یعنی کرتے کچھ نہیں محض ریا ہی ریا ہے ۔ حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ