ابو عبداللہ انطاکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ریا کار کو حکم ہوگا کہ جس شخص کے دکھانے کے لئے تونے عمل کیا اس کا اجراسی سے مانگ۔
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص24)
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
من ذم نفسہ فی الملإ فقد مدحھا وذالک من علامات الریاء.
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص25)
کہ جو شخص مجالس میں اپنے نفس کی مذمت کرے تو اس نے گویا مدح کی اور یہ ریا کی علامت سے ہے۔ یہاں سے ان واعظوں اور لیکچراروں کو عبرت حاصل کرنا چاہیے جو اسٹیج پر کھڑے ہوتے اپنی مذمت کرتے ہیں کہ ان حضرات کے سامنے کیا جرأت رکھتا ہوں کہ بولوں،میں ان کے سامنے ہیچ ہوں،یہ ہوں،وہ ہوں ۔ یہ مذمت نہیں بلکہ حقیقت
میں اپنی تعریف کرنا ہے ۔ بزرگانِ دین اس کو بھی ریا پر محمول فر ماتے تھے ۔