Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
25 - 78
   حضرت ابو السائب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ یہاں تک اخلاص کا خیال رکھتے تھے کہ اگر قرآن یا حدیث کے سننے سے ان کو رقت طاری ہوجاتی اور آنکھوں میں پانی بھر آتا تو آپ فورًا اس رونے کو تبسم کی طرف پھیر دیتے۔
 (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص24)
    یعنی ہنس پڑتے اور ڈرتے کہ رونے میں ریا نہ ہوجائے ۔ آج ہم خواہ مخواہ وعظ میں تقریر میں رونی صورت بناتے ہیں کہ لوگ سمجھیں کہ یہ حضرت بڑے نرم دل اورخدا خوف ہیں۔ ؎
بہ بیں تفاوت رہ از کجا ست تا بکجا
    ابو عبداللہ انطاکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ریا کار کو حکم ہوگا کہ جس شخص کے دکھانے کے لئے تونے عمل کیا اس کا اجراسی سے مانگ۔
 (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص24)
                       حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
من ذم نفسہ فی الملإ فقد مدحھا وذالک من علامات الریاء.
         (تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص25)
    کہ جو شخص مجالس میں اپنے نفس کی مذمت کرے تو اس نے گویا مدح کی اور یہ ریا کی علامت سے ہے۔ یہاں سے ان واعظوں اور لیکچراروں کو عبرت حاصل کرنا چاہیے جو اسٹیج پر کھڑے ہوتے اپنی مذمت کرتے ہیں کہ ان حضرات کے سامنے کیا جرأت رکھتا ہوں کہ بولوں،میں ان کے سامنے ہیچ ہوں،یہ ہوں،وہ ہوں ۔ یہ مذمت نہیں بلکہ حقیقت 

میں اپنی تعریف کرنا ہے ۔ بزرگانِ دین اس کو بھی ریا پر محمول فر ماتے تھے ۔
Flag Counter