| اخلاقُ الصالحین |
تتکلمین بکلام الصالحین القانتین العابدین وتفعلین فعل الفاسقین المنافقین المرائین واللہ ما ھذہ صفات المخلصین۔
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص23)
اے نفس! تو باتیں تو ایسی کرتاہے جیسے بڑا ہی کوئی صالح ، عابد ، زاہدہے لیکن تیرے کام ریاکاروں،فاسقوں،منافقوں کے ہیں ۔ خدا کی قسم ! مخلص لوگوں کی یہ صفات نہیں کہ ان میں باتیں ہوں اور عمل نہ ہو۔ خیال فرمائیے ، امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہ شخص ہیں جنہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا دودھ پیا ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خرقہ خلافت پہنا۔ سلسلہ چشتیہ قادریہ اور سہروردیہ کے شیخ ہوئے ۔ مگر نفس کو ہمیشہ ایسے ہی جھڑکا کرتے تھے تاکہ اس میں ریا نہ پیدا ہو ۔ ایک ہم بھی ہیں بدنام کنندہ نکونامے چند کہ ہم اپنی ریاکاریوں کو عین اخلاص سمجھتے ہیں ۔
حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا کہ آدمی مخلص کس وقت ہوتاہے ۔ فرمایا:جب عبادت الٰہی میں خوب کوشش کرے اور اس کی خواہش یہ ہو کہ لوگ میری عزت نہ کریں ۔ جو عزت کہ لوگوں کے دلوں میں ہے وہ بھی جاتی رہے ۔
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص23)
حضرت یحییٰ بن معاذ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سوال ہواکہ انسان کب مخلص ہوتا ہے۔ فرمایا: جب شیر خوار بچہ کی طرح اس کی عادت ہو ۔شیرخوار بچہ کی کوئی تعریف کرے تو اسے خوش نہیں لگتی اور مذمت کرے تو اسے بری نہیں معلوم ہوتی جس طرح وہ اپنی مدح اور ذم سے بے پرواہ ہوتاہے اسی طرح انسان جب مدح وذم کی پرواہ نہ کرے تو مخلص کہا جاسکتاہے۔
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص24)