Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
23 - 78
 وَ مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤتِہٖ  مِنْہَا وَمَا لَہٗ  فِی الْاٰخِرَۃِ مِنۡ نَّصِیۡبٍ
 (پ25،الشورٰی:20)
کہ جو شخص (اپنے اعمال صالح میں)دنیا چاہے ہم دنیا سے اتنا جتناکہ اس کا مقرر ہے دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کے لئے کوئی حصّہ نہیں
  ایک بزرگ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے منقول ہے کہ وہ یہاں تک اخلاص کی کوشش کرتے تھے کہ ہمیشہ جماعت کی صفِ اول میں شامل ہوتے ،ایک دن اتفاقًا آخری صف میں کھڑے ہوئے اور دل میں خیال آیا کہ آج لوگ مجھے آخری صف میں دیکھ کر کیا کہیں گے ۔ اس خیال کے سبب لوگوں سے شرمندہ ہوگئے یعنی یہ خیال آیا کہ پچھلی صف میں لوگ دیکھ کر کہیں گے کہ آج اس کو کیا ہوگیا ہے کہ پہلی صف میں نہیں مل سکا ۔ اس خیال کے آتے ہی یہ سمجھا کہ میں نے جتنی نمازیں پہلی صف میں پڑھی ہیں اس میں لوگوں کے لئے نمائش مقصود تھی ۔ توتیس سال کی نمازیں قضا کیں ۔
     (کیمیائے سعادت،رکن چہارم،اصل پنجم،ج2،ص876)
 حضرت معروف کرخی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے:
''اخلصی تتخلص''
اے نفس ! اخلاص کر! تاکہ تو خلاصی پائے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا:
''المخلص من یکتم حسناتہ کما یکتم سیأتہ''
مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو بھی ایسے ہی چھپائے جیسے کہ اپنی برائیوں کو چھپاتاہے ۔
    حضرت سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے فرمایا:
یٰبنی لا تتعلم العلم الا اذا نویت العمل بہ والا فھو وبال علیک یوم القیٰمۃ.
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص23)
    اے میرے بیٹے ! علم پر اگر عمل کی نیت ہو توپڑھو ورنہ وہ علم قیامت کے دن 

تم پروبال ہوگا۔
Flag Counter