| اخلاقُ الصالحین |
ہوں اپنے نفس کے بدلہ کے لئے مامور نہیں ہوں ۔میں خدا کا شیر ہوں اپنی خواہش کا شیر نہیں ہوں ۔ چونکہ میرے منہ پر تونے تھوکا ہے اس لئے اب اس لڑائی میں نفس کا دخل ہوگیااخلاص جاتارہا، اس لئے میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے کہ میرا کام اخلاص سے خالی نہ ہو ؎
چونکہ درآمدعلتے اندر غزا تیغ را دیدم نہاں کردن سزا
جب اس جنگ میں ایک علّت پیدا ہوگئی جو اخلاص کے منافی تھی تو میں نے تلوار کا روکنا ہی مناسب سمجھا ۔ وہ کافر حضرت کا یہ جواب سن کر مسلمان ہوگیا ۔اس پر مولانا رومی فرماتے ہیں ؎
بس خجستہ معصیت کاں مرد کرد نے زخارے بردمد اوراق ورد
وہ تھوکنا اس کے حق میں کیا مبارک ہوگیا کہ اسے اسلام نصیب ہوگیا ۔ اس پر مولانا تمثیل بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح کانٹوں سے گل سرخ کے پتے نکلتے ہیں اسی طرح اس کے گناہ سے اسے اسلام حاصل ہوگیا ۔
حضرت وہب بن منبہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے:
''من طلب الدنیا بعمل الۤاخرۃنکس اللہ قلبہ وکتب اسمہ فی دیوان اہل النار''
(تنبیہ المغترّین،الباب الاوّل،اخلاصہم للہ تعالیٰ،ص23)
جو شخص آخرت کے عمل کے ساتھ دنیا طلب کرے ۔ خدا تعالیٰ اس کے دل کو الٹا کردیتا ہے اور اس کا نام دوزخیوں کے دفتر میں لکھ دیتاہے ۔حضرت وہب بن منبہ
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ قول اس آیت سے ماخوذ ہے جو حق تعالیٰ نے فرمایا: