Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
21 - 78
اخلاص
سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا ۔ وہ ہرایک عمل میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتاتھا ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں ۔ وہ لوگوں میں زاہدعابد بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے ۔انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا ۔ ان کا مقصودمحض رضائے حق سبحانہ و تعالیٰ ہوتاتھا۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی نہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب یمن بھیجا تو فرمایا:
اخلص دینک یکفک العمل القلیل.
 (المستدرک علی الصحیحن،کتاب الرقاق،الحدیث:7914،ج5،ص 435)
   کہ اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔(حاکم) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ ناظرین سے مخفی نہیں کہ ایک لڑائی میں ایک کافر پر آپ نے قابو پالیا ۔ اس نے آپ کے منہ مبارک پر تھوک دیاتو آپ نے اسے چھوڑ دیا ۔ وہ حیران رہ گیا کہ یہ بات کیا ہے ؟بجائے اس کے کہ انہیں غصّہ آتا اور مجھے قتل کردیتے انہوں نے چھوڑدیا ہے ۔ حیران ہوکر پوچھتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ؎
گفت من تیغ از پئے حق مے زنم



بندہ حقم نہ مامور تنم

شیر حقم نیستم شیر ہوا



فعل من بر دین من باشد گواہ
     کہ میں نے محض رضائے حق کے لئے تلوار پکڑی ہے میں خدا کے حکم کا بندہ
Flag Counter