| اخلاقُ الصالحین |
بھنگ اور چرس پیتے ہیں اور اپنے آپ کو خدا رسیدہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شرع کی اور فقیر کی قدیم سے مخالفت چلی آئی ہے ۔اور کہتے ہیں کہ ظاہری علم کے ترک سے وصول الی اللہ حاصل ہوتا ہے وغیرہ ذالک من الخرافات،ہرگز ہرگز درجہ ولایت کو نہیں پہنچ سکتے ایسے لوگوں کی صحبت سے پرہیز لازم ہے ۔ مولانا روم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایسے لوگوں کے حق میں فرمایا ہے ؎
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہر دستے نباید داد دست
اور یہ بھی معلوم ہوگیاکہ طریق اہل اللہ مطابق شریعت ہے اور جو لوگ شریعت کے پورے پورے تابعدار ہیں وہی اللہ عزوجل کے اولیاء اور مقبول ہیں اور طریقت اسی شریعت کا نام ہے لیکن یاد رہے کہ اولیائے کرام و مشائخ عظام جو کتاب و سنت کا اتباع کرتے تھے تو بتوسط مجتہد کرتے تھے ۔ کوئی ان میں سے جو کہ مجتہد نہ تھا ، غیر مقلد نہ ہوا،چنانچہ درمختار میں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم ادہم،حضرت شقیق بلخی، معروف کرخی،ابو یزید بسطامی،حضرت فضیل بن عیاض،حضرت داود طائی،حضرت ابو حامد اللفاف،خلف بن ایوب، حضرت عبداللہ ابن مبارک ،حضرت وکیع بن الجراح اور حضرت ابو بکروراق وغیرہم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم بہت سے اولیاء کرام حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مذہب پر ہوئے ہیں ۔(در مختارص6 )
(الدرالمختار،المقد مۃج1،ص140)
ہمہ شیراں جہاں بستہ ایں سلسلہ اند روبہ از حیلہ چساں بگسیلد ایں سلسلہ را