ہل تدری لم رفعک اللہ تعالیٰ من بین اقرانک ۔
کہ تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ہم عصروں پر تجھے کیوں رفعت دی ؟ میں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! میں نے نہیں جانا۔آپ نے فرمایا:
باتباعک لسنتی وخدمتک للصالحین ونصیحتک لا خوانک و محبتک لاصحابی واھل بیتی وھوالذی بلغک منازل الابرار۔
(الرسالۃ القشیریۃ،باب فی ذکر مشایخ ہذہ الطریقۃ،ابونصر بشر بن الحارث الحافی،ص31)
میری سنت کی اتباع کے سبب اور صالحین کی خدمت اور برادرانِ اسلام کو نصیحت کرنے کے سبب اور میرے اصحاب واہل بیت کی محبت کے سبب اللہ تعالیٰ نے تجھے پاک لوگوں کے مرتبہ میں پہنچا یا ۔
(الیٰ ھھنا منقول من رسالۃالقشیری)
اب سوچنا چاہیے کہ یہ لوگ علماء طریقت و مشائخ ملت و کبرائے حقیقت ہیں
اور یہ سب کے سب شریعت محمدی کی تعظیم کرتے ہیں اور پنے باطنی علوم کو ملت حنفیہ وسیرت احمدیہ کے تابع رکھنا لازم سمجھتے ہیں تو اب وہ جہلاء قوم جو شریعت کی بالکل پابندی نہیں کرتے ،نماز روزہ پر تمسخر اڑاتے ہیں،داڑھیاں چٹ کراکے رات دن