Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
18 - 78
یہاں سے معلوم ہوسکتاہے کہ حضرات مشائخ کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کس قدر شریعت کے پابند تھے ۔ مشکوٰۃ شریف میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھاکہ اس نے قبلہ کی طرف منہ کرکے تھوکا ہے تو آپ نے فرمایا:
'' لا یصلی لکم''
کہ یہ تمہاری جماعت نہ کرائے ۔ اُ س نے پھر جماعت کرانے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے اس کو منع کیا اور اس کو خبر دی کہ رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تمہارے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں یہ واقعہ پیش ہوا توآپ نے فرمایا: ہاں( میں نے منع کیا ہے)
انک قد اذیت اللہ ورسولہ
کہ تونے (قبلہ کی طرف تھوک کر)اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو ایذا دی ۔(ابو داؤد)
(مشکاۃ المصابیح،کتاب الصلاۃ،باب المساجد و مواضع الصلاۃ،الفصل الثالث، الحدیث: 747،ج1،ص156)
یہاں سے معلوم کرلینا چاہیے کہ دین میں ادب کی کس قدر ضرورت ہے اور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قبلہ شریف کی بے ادبی کرنے کے سبب منع فرمایا کہ ''یہ شخص نماز نہ پڑھائے ''۔جو شخص سر سے پاؤں تک بے ادب ہو ، سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حق میں گستاخ ہو، ائمہ دین کی بے ادبی کرتاہو، حضرات مشائخ پر طرح طرح کے تمسخر کرے، ایسا شخص امام بننے کا شرعاً حق رکھتا ہے؟ ہرگز نہیں۔
حضرت ابو سلیمان دارانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
وبما تقع فی قلبی النکتۃ من نکت القوم ایاما فلا اقبل منہ الا بشاہدین عدلین الکتاب والسنۃ.
(الرسالۃ القشیریۃ،باب فی ذکر مشایخ ہذہ الطریقۃ،ابوسلیمان عبد الرحمٰن بن عطیۃ الدارانی،ص41)
   کہ بسا اوقات میرے دل میں کوئی نکتہ نکتوں میں سے واقع ہوتاہے ۔ تو میں
Flag Counter