Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
17 - 78
 حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:
    (الصوفی)ھو الذی لا یطفئ نور معرفتہ نور ورعہ ولا یتکلم بباطن فی علم ینقضہ علیہ ظاہر الکتاب ولا تحملہ الکرامات علی ھتک محارم اللہ تعالٰی.
 (وفیات الاعیان،حرف السین المھملۃ،ابوالحسن سری بن مغلس،ج2،ص299)
کہ صوفی وہ شخص ہے جس کی معرفت کا نور اس کی پرہیز گاری کے نور کو نہ بجھائے یعنی اوامر پر اس کا عمل ہو اور نواہی سے بچتا ہو اور کوئی باطن کی ایسی بات نہ کرے جس کو ظاہر قرآن توڑتا ہواور کرامات اسے اللہ عزوجل کی محرمات کی ہتک پر برانگیختہ نہ کریں ۔ حاصل یہ ہے کہ وہ شریعت کا سچاوپکا تابعدار ہو۔
  ایک شخص جس کی زیارت کے لئے دور دور سے لوگ آتے تھے وہ بڑا مشہور زاہد تھا ۔ اس کی شہرت کی خبر سن کر حضرت ابو یزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے بعض احباب کو فرمایا:
قم بنا حتی ننظر الی ھذا الرجل الذی قد شھر نفسہ بالولایۃ۔
کہ آؤ ہم اس شخص کو دیکھیں جس نے اپنے آپ کو ولی مشہور کررکھا ہے ۔جب آپ اس کے پاس گئے اور وہ گھر سے باہر نکلا اور مسجد میں داخل ہواتو اس نے قبلہ شریف کی طرف منہ کرکے تھوکا، تو حضرت ابویزید بسطامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس کا یہ فعل دیکھ کر بغیر ملاقات واپس چلے آئے اور اس کو سلام بھی نہ کیا اور فرمایا:
ھذا غیر مامون علی ادب من آداب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فکیف ما مونا علی مایدعیہ.
 (الرسالۃ القشیریۃ،باب فی ذکر مشایخ ہذہ الطریقۃ،ابویزید بن طیفور بن عیسی البسطامی،ص38)
    کہ یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے آداب میں سے ایک ادب کا بھی امین نہیں تو ولایت جس کا یہ دعویٰ کرتاہے اس کا امین کیسے ہوسکتاہے ۔
Flag Counter