| اخلاقُ الصالحین |
اس زمانہ میں جبکہ الحاد و زندقہ دن بدن ترقی پر ہے ۔ کفر وبے دینی کا زور ہے،سچے مسلمان سلف صالحین کے متبع خال خال نظر آتے ہیں ۔کور باطنوں نے اسلام کو بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے، اپنے اپنے خیال سے اسلام کو کسی نے کچھ سمجھ رکھا ہے کسی نے کچھ ، کوئی تو محض ہمدردی کو اسلام سمجھتا ہے ، کوئی بے دینوں سے مل جل کر رہنے میں اتفاق اور اسی کو خلاصہ اسلام سمجھ کر علمائے دین ومشائخ امت پر تفرقہ بازی کا الزام لگاتا ہے ۔ کوئی داڑھی منڈانے اور انگریزی ٹوپی پہننے میں اسلام کی ترقی سمجھتا ہے ۔ کوئی مستورات کی بے پردگی میں اپنا عروج جانتا ہے۔غرض کہ مذہب کو دنیا سے نیست و نابود کرنے کے لئے ہمہ تن کوشاں ہیں ۔میں نے بحکم
''اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ ''
(صحیح مسلم،کتاب الایمان،باب بیان الدین النصیحۃ،الحدیث:55،ص47)
اپنے دینی بھائیوں کی ہدایت کے لئے ارادہ کیا کہ صالحین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کا عملدرآمد ، ان کا طریقہ، اُن کے اخلاق لکھوں تاکہ سچے مسلمانوں کا طریقہ پیش نظر رہے اور ہم کوشش کریں کہ حق سبحانہ وتعالیٰ ان بزرگانِ دین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے قدم بقدم چلنے کی توفیق دے اور ہماری عادات ، ہمارے اخلاق ، ہمارا تمدن بعینہ وہ ہو جو اُن حضرات کا تھااورجس شخص کو ہم اس کے برخلاف دیکھیں ، وہ کیساہی لیکچرار، کیسا ہی لیڈر ہو ، اس کی صحبت کو ہم قاتل سمجھیں ۔
وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ اُنِیْبُ