کہ ہماری کتاب قرآن شریف سب کتابوں کی سردار و جامع ہے اور ہماری شریعت سب شریعتوں سے واضح اور ادق ہے اور اہل تصوف کا طریق قرآن و سنت کے ساتھ مضبوط کیا گیا ہے ۔ جو شخص قرآن و سنت نہ جانتا ہو، نہ اُن کے معانی سمجھتاہو، اس کی اقتداء صحیح نہیں ،یعنی اسے اپنا پیشوا بنانا جائز نہیں ۔
اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے احباب سے فر مایا کرتے تھے:ا گر تم کسی آدمی کو ہوا میں چار زانوبیٹھا دیکھو تو اس کا اتباع نہ کرو تاوقتیکہ امرونہی میں اس کی جانچ نہ کرلو ۔ اگر اسے دیکھو کہ وہ امر الٰہی پر کاربند اور نواہی سے پرہیز کرتا ہے ، تو اس کو سچا جانو اور اس کا اتباع کرو ۔ اگر ایسا نہ ہوتو اس سے پرہیز رکھو۔
(تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،شروعہ فی المقصود،ص18)