Brailvi Books

اخلاقُ الصالحین
14 - 78
اتباعِ قرآن و سنّت
   سلف صالحین کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ وہ ہر امرمیں قرآن و سنت کا اتباع کیا کرتے تھے اوراس کے خلاف کو الحاد وزندقہ سمجھتے تھے ۔ چنانچہ امام شعرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ '' تنبیہ المغترین ''میں سید الطائفہ جنید رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :
کتابنا ھذا یعنی القراٰن سید الکتب واجمعھا وشریعتنا اوضح الشرائع وادقھا وطریقتنا یعنی طریقۃ اھل التصوف مشیدۃ بالکتاب والسنۃ فمن لم یقرأ القراٰن ویحفظ السنۃ ویفھم معانیھما لا یصح الاقتداء بہ۔
  (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،شروعہ فی المقصود،ص18)
 کہ ہماری کتاب قرآن شریف سب کتابوں کی سردار و جامع ہے اور ہماری شریعت سب شریعتوں سے واضح اور ادق ہے اور اہل تصوف کا طریق قرآن و سنت کے ساتھ مضبوط کیا گیا ہے ۔ جو شخص قرآن و سنت نہ جانتا ہو، نہ اُن کے معانی سمجھتاہو، اس کی اقتداء صحیح نہیں ،یعنی اسے اپنا پیشوا بنانا جائز نہیں ۔
 اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے احباب سے فر مایا کرتے تھے:ا گر تم کسی آدمی کو ہوا میں چار زانوبیٹھا دیکھو تو اس کا اتباع نہ کرو تاوقتیکہ امرونہی میں اس کی جانچ نہ کرلو ۔ اگر اسے دیکھو کہ وہ امر الٰہی پر کاربند اور نواہی سے پرہیز کرتا ہے ، تو اس کو سچا جانو اور اس کا اتباع کرو ۔ اگر ایسا نہ ہوتو اس سے پرہیز رکھو۔
      (تنبیہ المغترین،الباب الاوّل،شروعہ فی المقصود،ص18)
Flag Counter