| ایمان کی پہچان |
اَیۡمَانَہُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ عَہۡدِہِمْ وَطَعَنُوۡا فِیۡ دِیۡنِکُمْ فَقَاتِلُوۡۤا اَئِمَّۃَ الْکُفْرِ ۙ اِنَّہُمْ لَاۤ اَیۡمَانَ لَہُمْ لَعَلَّہُمْ یَنۡتَہُوۡنَ ﴿۱۲﴾
ترجمہ :۔ پھر اگر وہ توبہ کریں او ر نماز برپا رکھیں او ر زکٰوۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں اور ہم پتے کی بات (آیتیں) صاف بیان کرتے ہیں علم والوں کیلئے اور اگرقول و قرار کرکے پھر اپنی قسمیں توڑیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے لڑو، بے شک ان کی قسمیں کچھ نہیں شاید باز آئیں ۔ (پارہ ۱۰،توبہ ۸۴)
دیکھو نماز ،زکٰوۃ والے اگر د ین پر طعنہ کریں تو انہیں کفر کا پیشوا ، کَافِروں کا سر غنہ(۱) فرمایا۔ کیا خداعَزّوَجلّ اور رَسُول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کی شان میں وہ گستاخیاں دین پر طعنہ نہیں ، اس کا بیان بھی سنئے:تُمہارا رب عَزّوَجلّ فرماتاہے:
مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا یُحَرِّفُوۡنَ الْکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ وَیَقُوۡلُوۡنَ سَمِعْنَا وَعَصَیۡنَا وَاسْمَعْ غَیۡرَ مُسْمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـیًّۢا بِاَلْسِنَتِہِمْ وَطَعْنًا فِی الدِّیۡنِ ؕ وَلَوْ اَنَّہُمْ قَالُوۡا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانۡظُرْنَا لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمْ وَاَقْوَمَ ۙ وَلٰکِنۡ لَّعَنَہُمُ اللہُ بِکُفْرِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۴۶﴾
ترجمہ :۔کچھ یہودی بات کو اس کی جگہ سے بدلتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا او ر نہ مانا اور سنئے آپ سنائے نہ جائیں اور رَاعِناَ کہتے ہیں زَبَا ن پھیر کر اوردین میں طعنہ کرنے
(۱)کَافِروں کے سردار ۔