Brailvi Books

ایمان کی پہچان
98 - 162
وَالنَّبِیِّیْنَ ﴿﴾ ۔ ''
ترجمہ :۔ اصل نیکی یہ نہیں کہ اپنا منہ  پُوْرَب (مشرق )پَچِّھم (مغرب )کی طرف کروبلکہ اصل نیکی یہ ہے کہ آدمی ایمان لائے اﷲاور قِیَامَت اور فِرِشتوں اورقرآن اور تمام انبیاء پر۔ (پارہ ۲،البقرۃ ۱۷۷)

    دیکھوصاف فرمادیا کہ ضروریاتِ دین پر ایمان لانا ہی اصل کارہے بغیر اس کے نماز میں قبلہ کو منہ کرنا کوئی چیز نہیں ،اور فرماتاہے:
وَمَا مَنَعَہُمْ اَنۡ تُقْبَلَ مِنْہُمْ نَفَقٰتُہُمْ اِلَّاۤ اَنَّہُمْ کَفَرُوۡا بِاللہِ وَبِرَسُوۡلِہٖ وَلَایَاۡتُوۡنَ الصَّلٰوۃَ اِلَّاوَہُمْ کُسَالٰی وَلَایُنۡفِقُوۡنَ اِلَّاوَہُمْ کٰرِہُوۡنَ ﴿۵۴﴾
ترجمہ :۔ اور وہ جو خرچ کرتے ہیں اس کا قبول ہونا بندنہ ہوا مگر اس لئے کہ انہوں نے اﷲورَسُول عَزَّوَجلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلّم کے ساتھ کفر کیا اور نماز کونہیں آتے مگر جی ہارے (۱) اور خرچ نہیں کرتے مگر بْرے دل سے ۔ (التوبتہ ۵۴ ، پارہ ۱۰ ع۱۳)

    دیکھو ان کا نماز پڑھنا بیان کیا او ر پھر انہیں کَافِر فرمایا ، کیا وہ قبلہ کونماز نہیں پڑھتے تھے ؟فقط قبلہ کیسا , قبلئہ دل وجاں ،کعبہءِ دین وایمان ،سرورِ عالمیان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے جانب قبلہ نماز پڑھتے تھے ،اور فرماتاہے:
فَاِنۡ تَابُوۡا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیۡنِ ؕ وَنُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ ﴿۱۱﴾وَ اِنۡ نَّکَثُوۡۤا
 (۱) نماز پڑھنا تونہیں چاہتے مگر لوگوں کو دکھانے کیلئے پڑھتے ہیں ۔
Flag Counter